لکھنؤ،04؍ دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بلند شہر میں گؤکشی کو لے کر بھیڑ تشدد میں مارے گئے پولیس انسپکٹر کے بیٹے نے کہا ہے کہ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ ایک اچھا شہری بنے جو مذہب کے نام پر تشدد نہ بھڑکائے۔ابھیشیک سنگھ نے کہاکہ میرے والد نے اس ہندو مسلم تنازعہ میں اپنی زندگی گنوا ئی ہے۔اگلا نمبر کس کے والد کا ہوگا ؟ پولیس پر حملے کے دوران انسپکٹر سبودھ سنگھ اور ایک 20 سالہ نوجوان کی موت ہو گئی تھی۔سبودھ سنگھ نے 2015 میں بیف کھانے کو لے کر پھیلی افواہ کے بعد دادری رہائشی محمد اخلاق قتل کیس کی ابتدائی جانچ کی تھی۔انسپکٹر کی بہن نے الزام لگایا کہ قتل پولیس کی ایک سازش ہے۔سنیتا سنگھ نے بتایاکہ پولیس نے ایک سازش میں میرے بھائی کا قتل کیا کیونکہ اس نے ایک فرضی گؤکشی کے مجرم اخلاق کی جانچ کی تھی۔انہوں نے کہاکہ انہیں شہید کا درجہ دیا جانا چاہئے اور ہمارے آبائی مقام پر ان کا ایک یادگار بنایا جانا چاہئے۔سنیتا نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گائے ہماری ماں ہے۔میں اس کو قبول کرتی ہوں۔میرے بھائی نے اپنی زندگی ان کے لئے دے دی۔وزیر اعلی گائے، گائے، گائے کرتے رہتے ہیں۔وہ گائے کی حفاظت کے لئے اقدامات کیوں نہیں اٹھاتے؟